پاکستان میں بھکاریوں کی باقاعدہ بھرتی ہونا شروع ہوگئی ، تہلکہ خیز انکشاف۔۔
پاکستان میں بھکاریوں کی باقاعدہ بھرتی ہونا شروع ، یہ گروہ کن کن ممالک میں کام کرتا ہے اور ہدف کون لوگ ہیں تہلکہ خیز انکشاف ہوا ہے۔پاکستان میں باقاعدہ بھکاریوں کی بھرتی ہونا شروع ہوگئی ہے اور ان کا ہدف اچھے بھلے نوکری کے خواہشمند بچے ہیں، " نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے اوپر والا ہاتھ اور نیچے والا ہاتھ کبھی برابر نہیں ہو سکتے،اوپر والے ہاتھ کو دینے اور نیچے والے والے ہاتھ کو لینے والے سے تشبیح دی جاتی ہے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دینے کا حکم دیا ہے،دینے والے کے درجات کی بلندی کے ساتھ اجرو ثواب کا بھی قرآن عظیم الشان میں بار بار ذکر فرمایا گیا ہے، مال کی برکت مال کو بڑھانے کا فارمولا دینے میں ہی بتایا گیا، زکوٰۃ، صدقات، فطرانہ، قربانی سب کچھ جذبہ دینے میں ہی پنہاں ہے،ایک کے بدلے 70 اور 700 تک دُنیا میں اور کئی گنا آخرت میں دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے پاکستان دُنیا میں خیرات و صدقات دینے والے ممالک میں سب سے آگے ہے،دینے کے حوالے سے بے شمار مثالیں دی جاتی ہیں اللہ والے اپنے مال اور جانوں کے بدلے جنت کا سودا کرتے ہیں، کہا جاتا ہے جس کنوئیں سے پانی نکلتا رہے اس کنوئیں کا پانی صاف رہتا ہے، جس کنوئیں سے پانی نہ نکالا جائے بدبو دینا شروع کر دیتا ہے، جوہڑ بن جاتا ہے یہی حال اللہ نے مال کا بتا دیا ہے۔ وہ مال جس سے صدقہ دیا جاتا ہے خرچ کیا جاتا ہو وہ کبھی کم نہیں ہوتا، خرچ نہ کرنے والے کے مال کی بے برکت کا بھی واضح فرمان ہے، خرچ نہ کرنے والے کنجوس کی حالتدکو غلط انداز سے لیا جاتا ہے، مخصوص مافیا نے مسلمانوں کے رحم کے جذبہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے، پاکستان میں منگوانے کا مکروہ دھندہ مافیا کی شکل اختیار کر چکا ہے،اس مافیا کا نٹ ورک پاکستان کے تمام بڑے شہروں کے ساتھ سعودیہ کے شہروں حرمین شریفین اور عرب امارات تک پھیلا ہوا ہے۔پاکستان میں بھکاریوں کی باقاعدہ بھرتی ہونا شروع ہو گئی ہے، غریب علاقوں سے اچھے بھلے بچے بچیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر شہروں میں لایا جا رہا ہے، ان کے جسم کے اعضاء کاٹ کرمعذور بنایا جا رہا ہے اور پھر زندگی بھر کی محتاجی ان کا مقدر بنا کر بھکاریوں کی فوج کا زندگی بھر کے لئے حصہ بنایا جاتا ہے۔30 سال سے مَیں لاہور کی سڑکوں، چوکوں اور گلی محلوں میں یہ دھندہ ہوتا دیکھ رہا ہوں،ہر حکومت میں سوشل ویلفیئر کا محکمہ موجود ہے، جس کے ذمہ بحالی معذوراں کا شعبہ ہے،خدمت کے دیگر ادارے بھی موجود ہیں، جو مانگنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں،ہر حکومت کو سال میں دو تین بار میڈیا کی نشاندہی پر ہوش اور جوش آتا ہے، چوکوں میں پکڑ دھکڑ ہوتی ہے، صبح پکڑے جاتے ہیں شام کو پھر چوک ان بھکاریوں سے آباد ہو جاتے ہیں،بھکاریوں کی آباد کاری کا منصوبہ بھیک مانگنے سے منع کر کے انہیں روزگار کی فراہمی تک منصوبے متعارف کرائے گئے،مگر ایک دفعہ مانگنے کا چسکا جس کو پڑ گیا اس کو ڈنڈوں کی ماڑ پڑتی رہی، تھانے میں بند کیا جاتا رہا-

3 تبصرے
💯💯😀
جواب دیںحذف کریںGood
جواب دیںحذف کریںExcellent 💯
جواب دیںحذف کریں