نبض کیسے امراض کا پتہ دیتی ہے؟
پاکستان میں مختلف طریقہ ہائے علاج رائج ہیں۔ ہرطریقہ علاج میں تشخیص کے الگ پیرامیٹرز ہیں۔ طب میں تشخیص کے اہم ذرائع نبض وقارورہ ہیں۔اگرچہ اس کے علاوہ تشخیص کے کچھ ذرائع ہیں لیکن وہ ثانوی ہیں۔ نبض کے بارے میں اکابرین فن کے اقوال قابل غور ہیں۔
بقراط کا قول ہے’’ نبض ایک خاموشی اعلانچی ہے اور باطنی حالات کو بہ آواز بلند بتاتی ہے لیکن جو حکماء اس پر دسترس نہ رکھتے ہوں ان کے لیے گونگی ہے۔ جالینوس کا قول ہے ’’نبض بیماری کی پیچیدگیوں کو طبیب کے سامنے رکھ دیتی ہے‘‘۔ رازی کا قول ہے ’’ نبض ایک ایسا آلہ ہے جس سے جسم کے تمام حالات کا علم ہو جاتاہے اور جسم کے تمام مفرد اعضاء کے حالات بتلاتی ہے۔ افلاطون کا قول ہے ،، نبض کبھی خطا نہ کرنے والا پیغامبر ہے۔
مختلف لوگوں کی نبض مختلف ہوتی ہے۔ ہم نبض کی موٹائی، پتلا پن، سستی، تیزی، نرمی وسختی، بلندی اور پستی، تنگی و کشادگی ہی کو بھانپتے ہیں۔ یہ مختلف صورتیں ہی نبض کی زبان ہیں۔ مثال کے طورپر جس مریض کی نبض سخت ہوگی، بلند ہوگی یعنی ہاتھ رکھتے ہی انگلیوں کو چھونے لگے گی، رفتار میں تیزی ہو گی، اگر اسے دبانے کی کوشش کی جائے گی تو انگلیوں کو اْوپر کی طرف اْٹھائے گی۔ ایسی نبض جسم میں خشکی کے غلبہ کا اظہار کرے گی۔ مزاج دریافت کرنے کابہترین ذریعہ نبض اور قارورہ ہی ہیں۔

0 تبصرے