اب تو ہر کچھ دن بعد خبر آتی ہے کہ فلاں ویب سائٹ سے پاسورڈز ہیک ہو گئے ہیں۔عام طور پر مختلف ویب سائٹس کا ہیک کیا ہوا ڈیٹا انٹرنٹ پر دستیاب ہوتا ہے۔ دنیا بھر کے سیکورٹی ماہرین اس ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں۔ کچھ سیکورٹی کمپنیاں لیک شدہ ڈیٹا بیسزمیں سے سے تمام پاسورڈز ایک جگہ جمع کر کے اندازہ لگاتی ہے کہ صارفین کس طرح کے پاسورڈز استعمال کرتے ہیں۔
سیکورٹی ماہرین نے لیک ڈیٹا سے حاصل شدہ کمزور ترین پاسورڈ کی فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست میں موجود پاسورڈ تھوڑے سے ردوبدل کے ساتھ تقریباً پچھلے سال والے ہی ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صارفین پاسورڈز کی سیکورٹی کے حوالے سے اب بھی کچھ زیادہ دھیان نہیں دیتے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اب بہت سے پاس ورڈزمنیجر موجود ہیں، جو صارفین کے پاسورڈ کو محفوظ رکھتے ہیں اور صارفین کو انہیں یاد رکھنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔

0 تبصرے