کچھ باتیں مشرف کو غدار قرار دینے والے جج کے بارے میں 
(دروغ برگردن راوی)
موصوف کا نام وقار احمد سیٹھ ہے اور پشاور ھائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں۔ 
چیف جسٹس پشاور ھائی کورٹ وقار احمد سیٹھ کو پی ٹی ایم اور ٹی ٹی پی کے حلقوں میں "مسیحا" کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ 
کہا جاتا ہے کہ غداری یا دہشت گردی کے جرم میں ملوث کوئی شخص محض ان صاحب کی کورٹ کی دیوار چھو لے تو وہ رہا جاتا ہے۔ 
چیف جسٹس صاحب کی عدالت سے اب تک پی ٹی ایم کے 200 کے قریب بندوں کو ضمانتیں اور رہائیاں مل چکی ہیں۔ 
یہ تمام گرفتار شدگان غداری کے سنگین جرائم میں ملوث تھے مثلاً 
دشمن ایجنسیوں سے فنڈز لینا، 
دہشت گردوں سے روابط،
لوگوں کو ریاست کے خلاف اکسانا، 
پاکستان توڑنے کے نعرے لگانا، 
اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف نعرے بازی اور لوگوں کو اداروں کے خلاف جنگ پر ابھارنا وغیرہ
کچھ ایسے ہی رحم دل یہ ٹی ٹی پی کے لیے بھی ہیں۔ 
مثلاً کوئی سال پہلے ان موصوف نے باجوڑ سے تعلق رکھنے والے ٹی ٹی پی اور داعش کے 102 سزایافتہ مجرموں کی سزائیں بیک جنبش قلم معاف کر دیں جن میں سے آدھے سے زیادہ افغانستان واپس جاکر دوبارہ ایکٹیو ہوگئے۔ 
ان دنوں باجوڑ کے لوگوں نے سوشل میڈیا پر واویلا بھی کیا تھا کہ ہمیں ججوں اور وکلاء نے دوبارہ دہشت گردوں کے حوالے کر دیا ہے لیکن پھر ڈر کر چپ ہوگئے۔

اسی طرح موصوف نے آرمی عدالتوں سے سزائیں پانے والے 68 دہشت گردوں کی سزائیں لطیف آفریدی اور پی ٹی ایم کے فضل ایڈوکیٹ کی درخواست پر معطل کر دی تھیں۔
فوج بھاگی بھاگی سپریم کورٹ کے پاس گئی اور بمشکل اس حکم پر عمل درآمد رکوایا ورنہ یہ صاحب ان خطرناک دہشت گردوں کو بری کر چکا تھا۔ 
جن سینکڑوں دہشت گردوں کو اس جج موصوف نے اب تک ریلیف دی ہے اور سزایافتہ دہشت گردوں کی سزائیں معاف کیں ہیں وہ 
بم دھماکوں، 
لوگوں کو ذبح کرنے، 
پاک فوج پر حملے کرنے، 
سمیت دہشت گردی کی مختلف وارداتوں میں ملوث تھے۔ 

سوال تو بنتا ہے کہ اتنے " دریا دل " جج نے مشرف کو ایک ایسی شق کے تحت "غدار" قرار دیتے ہوئے سزائے موت کیوں سنائی جو اس وقت آئین کا حصہ بھی نہیں تھی جس وقت مشرف ایمر جنسی لگا رہا تھا۔ 
(غیر مصدقہ)