لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے کم از کم دو درجن حکومتی اور فوجی عہدیداروں کے واٹس ایپ ہیک کرکے جاسوسی کیے جانے کا انکشاف منظرعام پر آ گیا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق پاکستانی حکومتی و فوجی عہدیداروں کی جاسوسی اسرائیلی سپائی ویئر کمپنی این ایس او گروپ کے بنائے ہوئے ایک جاسوس سافٹ ویئر کے ذریعے کی گئی۔ معاملے سے آگاہ ذرائع نے دی گارڈین کو بتایاہے کہ جن پاکستانی حکام کے فونز کی جاسوسی کی گئی ان میں پاکستانی انٹیلی جنس کے حکام بھی شامل ہیں
رپورٹ کے مطابق رواں سال ہیکنگ کی یہ بڑی واردات منظرعام پر آئی تھی جس میں مختلف ممالک کے 1400سے زائد لوگوں کے واٹس ایپ ہیک کرکے ان کی جاسوسی کی گئی۔ تب سے اس معاملے کی تحقیقات ہو رہی ہیں جن میں پاکستانی حکام کے واٹس ایپ بھی ہیک کیے جانے کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہیکرز نے رواں سال مئی کے مہینے میں دو ہفتوں کے دوران ان تمام لوگوں کے واٹس ایپ ہیک کیے اور ان کی معلومات چوری کیں۔ واٹس ایپ کی طرف سے این ایس او گروپ کے خلاف ایک مقدمہ بھی درج کروایا گیا ہے مقدمے میں واٹس ایپ نے کہا ہے کہ ”این ایس گروپ کے ایک سافٹ ویئر کے ذریعے ہمارے پلیٹ فارم کو نشانہ بنایا گیا اور ہمارے سینکڑوں صارفین کی ذاتی معلومات چوری کی گئیں۔ ان صارفین میں دنیا کے بڑے وکلائ، صحافی، انسانی حقوق کے کارکن، سیاستدانوں، سفارت کاروں اور فوجی عہدیداروں کے واٹس ایپ کو نشانہ بنایا گیا۔“ این ایس گروپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس قانونی کارروائی کا سامنا کریں گے۔ گروپ کی طرف سے کہا گیا کہ ان کا یہ سافٹ ویئر حکومتی سکیورٹی ایجنسیاں جرائم پیشہ لوگوں، دہشت گردوں اور بچوں سے جنسی زیادتی کے مجرموں کو پکڑنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔“تاہم سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ گروپ کا بنایا ہوا یہ جاسوس سافٹ ویئر پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جاسوسی کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور اس حالیہ ہیکنگ کی واردات کی تحقیقات میں بھی یہی ثابت ہو ہے۔

0 تبصرے