تفصیلات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں ایک اپیل دائر کی ہے جس میں کم سن ملزم کو 10 سالہ قید اور دو لاکھ جرمانہ کی سزا معاف کرنے کی استدعا کی گئی جو اسے کم عمر مجرموں کی عدالت نے دی تھی
یہ کیس کچھ یوں تھا ایک شخص عادل حسین کچھ دن گھر سے غائب تھا تو اس کے بھائی امجد نے درخوست دائر کی
ڈھونڈنے پر اس کی لاش ایک سنسان جگھ سے ملی
پولیس نے تفشیش کی تو اس کا قاتل ایک کم سن لڑکا نکلا جس نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ مقتول نے 3 سال قبل اسے نشہ آور مشروب پلا کر اس کے ساتھ بد فعلی کی اور اس کی ویڈیو بھی بنا لی
اور اسے بلیک میل کرتا تھا اور اس کے ساتھ بد فعلی کرتا تھا تنگ آ کر اس اسے فائر مار کر قتل کر دیا
پشاور ہائی کورٹ نے اس کے سزا کو منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنے بچاو میں نہں قتل کیا

0 تبصرے