نجی بینک میں ڈکیتی ہوئی گارڈ نے اپنی جان پر کھیل کر ڈاکوؤں کا مقابلہ کیا ۔
ڈاکوؤں کی فائرنگ سے گارڈ شدید زخمی ہو گیا ۔
کچھ مہینوں بعد گارڈ اپنی ڈیوٹی سرانجام دینے بنک حاظر ہوا
بنک کے سارے عملہ نے گارڈ کا شاندار استقبال کیا ۔
گارڈ دوبارہ ڈیوٹی پر حاظر ہوا اسلحہ اس کے پاس تھا ۔
اسی گارڈ نے سارے بنک کے عملے کو یرغمال بنا لیا ۔
اور خود مینیجر کی کرسی پر بیٹھ گیا ۔
کہ میرا حق بنتا ہے کہ میں نے بنک کی بڑی خدمت کی ہے ۔
میں نے اپنی جان پر کھیل کر ڈاکوؤں کا مقابلہ کیا اور بنک کو لٹنے سے بچایا
لحاظہ میرا یہ حق بنتا ہے کہ میں مینیجر کی کرسی پر بیٹھ کر بنک کی مذید خدمت کر سکوں۔
اپنے فرائض سے غفلت برتنے پر،محکمۂ کی طرف سے دیے گئے اسلحہ کا غلط استعمال کرنے پر
اپنے پیشے سے غداری کرنے پر ۔ دوسروں کے کام میں دخل اندازی پر ۔
کیا اس گارڈ کو سزا ملنی چاہیے یا بنک کی خدمت کے پیشِ نظر اس گارڈ کو معاف کر دینا چاہئیے ۔
ویسے کچھ گارڈز کا کہنا ہے کہ اس گارڈ کو سزا ملی تو ہمیں غصّہ بھی آ سکتا ہے۔